نئی دہلی، 18؍جون(ایس او نیوز؍ایجنسی) نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی)نے2002کے گجرات فسادات سے متعلق باب کو اپنی12ویں جماعت کی نصابی کتابوں سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے- اس کے علاوہ سرد جنگ اور مغل درباروں پر لکھے ابواب کو بھی ہٹا دیا گیا ہے- این سی ای آر ٹی کے مطابق فسادات کے ساتھ ساتھ کتاب سے نکسل تحریک کی تاریخ اور ایمرجنسی تنازعہ کو بھی ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے-
این سی ای آر ٹی نے اس کی وجہ بھی بتائی ہے- کونسل کا کہنا ہے کہ کورونا وبا کے بعد طلبہ کے نصاب میں مناسب تخفیف کیلئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے- این سی ای آر ٹی کے مطابق، کووڈ کی وبا کے پیش نظر طلبہ کے نصاب کو کم کرنے کیلئے کچھ اہم اقدامات کیے گئے ہیں اور اس کے تحت کلاس6سے12کے نصاب میں تبدیلی کی گئی ہے-
اس سے قبل سی بی ایس ای بورڈ نے کلاس11,10,9/ اور12کے نئے نصاب کا اعلان کیا تھا- نصاب میں کی گئی تبدیلیوں کے تحت دسویں جماعت کے سوشیل سائنس کے سلیبس سے اردو کے شاعر فیض احمد فیض کی نظموں کو نکال دیا گیا ہے-CBSEنے 11ویں جماعت کی کتاب سے سینٹرل اسلامک لینڈز کے باب کو ہٹا دیا ہے، جو اسلام کے قیام، عروج اور پھیلاؤ کی کہانی بیان کرتا ہے- ساتھ ہی12ویں جماعت کی کتاب سے مغلیہ سلطنت سے متعلق نصاب میں تبدیلیاں کی گئی ہیں -
CBSEکلاس12,10کا نظر ثانی شدہ نصاب سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہے- سی بی ایس ای سے منسلک اسکولوں کے کچھ اساتذہ نے اطلاع دی ہے کہ بورڈ نے نصاب سے کچھ ابواب اور ایونٹس کو ہٹا دیا ہے- اسی طرح کچھ حصہ جو پہلے ہٹا دیا گیا تھا واپس شامل کیا جاتا ہے- دسویں جماعت کی کتاب جمہوری سیاست کے صفحہ 46، 48، 49 پر موجود تصاویر کو نصاب سے ہٹا دیا گیا ہے- ان میں دو پوسٹرز اور ایک سیاسی کارٹون شامل ہیں - اس کتاب میں مذہب، فرقہ واریت اور سیاست کے تحت فرقہ واریت میں سیاست کے کردار کی وضاحت کیلئے تین کارٹون دیے گئے تھے- دو کارٹونوں میں فیض کے گیت بھی تھے-قابل ذکر ہے کہ سینٹرل یونیورسٹی کا داخلہ ٹسٹ(CUET)بھی بارہویں جماعت کے نصاب کی بنیاد پر کالجوں میں انڈرگریجویٹ کورسز کیلئے لیا جائے گا- کسی بھی دوسری کلاس کے نصاب کی بنیاد پر کالجوں میں داخلے کیلئے انٹری ٹسٹ میں کوئی سوال نہیں پوچھا جائے گا- داخلہ، امتحان میں حاصل کردہ نمبروں کی بنیاد پر کیا جائے گا-